Sahil

Album cover art for "Sahil" by Mizraab

Mizraab - Rock, Progressive Metal

Sahil

3 Plays

View ArtistView Album

Lyrics

Language:

[Chorus] ساحل پہ ریت کے چھوٹے چھوٹے گھر، دیکھ اُدھر جن کا مستقبل نہ کوئی ماضی حال ہے، سب جانے ساحل پہ ریت کے چھوٹے چھوٹے گھر، دیکھ اُدھر جن کا مستقبل نہ کوئی ماضی حال ہے، سب جانے [Verse 1] جب لہریں بڑھتی شور سے، زور سے وہ طوفانوں سے بے خبر، ریت کے گھر اور بہہ جاتے لہروں کے سنگ، بے بسی سے سادگی سے سپنے پھر سپنے ہوتے ہیں، ٹوٹ جاتے ہیں بکھر جاتے ہیں ان دیکھی دنیا کے سپنے دیکھنا نہیں، سب جانے [Verse 2] جب گہری چاند کی رات تھی ہر طرف میں گاؤں اور تیری یاد تھی ہر طرف یہ خواب تھا اور صراف تھا، بے سبب تھا جانتا چاندنی فریب ہے، روشن بھید ہے، رُکنا نہیں چاندنی یا دھوپ ہو، سب بیکار ہے، سب جانے [Bridge] یوں زندگی چلتی رہے راہ پہ تم بے پروا غم سے رہو شان سے لڑتے رہو صدمات سے، موسموں سے خواہشوں سے [Chorus] ساحل پہ ریت کے چھوٹے چھوٹے گھر، دیکھ اُدھر جن کا مستقبل نہ کوئی ماضی حال ہے، سب جانے ساحل پہ ریت کے چھوٹے چھوٹے گھر، دیکھ اُدھر جن کا مستقبل نہ کوئی ماضی حال ہے، سب جانے [Verse 1] جب لہریں بڑھتی شور سے، زور سے وہ طوفانوں سے بے خبر، ریت کے گھر اور بہہ جاتے لہروں کے سنگ، بے بسی سے سادگی سے [Chorus] ساحل پہ ریت کے چھوٹے چھوٹے گھر، دیکھ اُدھر جن کا مستقبل نہ کوئی ماضی حال ہے، سب جانے

Rate this song

Rate this song

0/5.0 - 0 Ratings

5
0.0% (0)
4
0.0% (0)
3
0.0% (0)
2
0.0% (0)
1
0.0% (0)

Loading comments...

Credits

Writers
  • Akhtar Qayyum