Woh Ishq Jo Humse Rooth Gaya

Album cover art for "Woh Ishq Jo Humse Rooth Gaya" by Farida Khanum

Farida Khanum - Pop, Poetry (Literature)

Woh Ishq Jo Humse Rooth Gaya

0 Plays

Duration: 2:03

View ArtistView Album

Lyrics

Language:

[Verse 1] وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اُس کا حال بتائیں کیا وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اُس کا حال بتائیں کیا کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا [Verse 2] اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تا دیر اُسے دہرائیں کیا اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تا دیر اُسے دہرائیں کیا وہ زہر جو دل میں اُتار لیا پھر اُس کے ناز اُٹھائیں کیا وہ زہر جو دل میں اُتار لیا پھر اُس کے ناز اُٹھائیں کیا کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا [Verse 3] اک آگ غمِ تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا [Verse 4] ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صورت گر کچھ خوابوں کے ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صورت گر کچھ خوابوں کے بے جذبۂ شوق سنائیں کیا کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا بے جذبۂ شوق سنائیں کیا کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا [Verse 5] وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اُس کا حال بتائیں کیا وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اُس کا حال بتائیں کیا وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اُس کا حال بتائیں کیا

Rate this song

Rate this song

0/5.0 - 0 Ratings

5
0.0% (0)
4
0.0% (0)
3
0.0% (0)
2
0.0% (0)
1
0.0% (0)

Loading comments...

Credits

Writers
  • Athar Nafees