Yeh Jo Halka Halka Suroor Hai

Album cover art for "Yeh Jo Halka Halka Suroor Hai" by Nusrat Fateh Ali Khan

Nusrat Fateh Ali Khan - Pop, Folk

Yeh Jo Halka Halka Suroor Hai

16.1K Plays

View ArtistView Album

Lyrics

Language:

[Intro] ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا لَہروں سے کھیلتا ہوا لہرا کے پی گیا اے رحمتِ تمام، میری ہر خطا معاف میں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا پیتا بغیرِ اذن، یہ کب تھی میری مجال دَر پردہ چشمِ یار کی شہ پا کے پی گیا زاہد! یہ میری شوخیٔ رِندانہ دیکھنا رحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیا توبہ کو توڑ تاڑ تھرا کے پی گیا اودی اودی گھٹائیں آتی ہیں مطربوں کی نوائیں آتی ہیں کس کے گیسو کُھلے ہیں ساون میں مہکی مہکی ہوائیں آتی ہیں آؤ صحنِ چمن میں رقص کریں ساز لے کر گھٹائیں آتی ہیں دیکھ کر اُن کی آکھڑیوں کو آدمؔ میکدوں کو حیائیں آتی ہیں پاس رہتا ہے، دور رہتا ہے کوئی دل میں ضرور رہتا ہے جب سے دیکھا ہے اُن کی آنکھوں کو ہلکا ہلکا سرور رہتا ہے ایسے رہتے ہیں وہ میرے دل میں جیسے ظُلمت میں نور رہتا ہے اب آدمؔ کا یہ حال ہے ہر وقت مست رہتا ہے، چُور رہتا ہے [Verse 1] یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے یہ تیری نظر کا قصور ہے کہ شراب پینا سکھا دیا تیرے پیار نے، تیری چاہ نے تیری بہکی بہکی نگاہ نے مجھے اک شرابی بنا دیا [Verse 2] شراب کیسی، خُمار کیسا یہ سب تمہاری نوازشیں ہیں پلائی ہے کس نظر سے تُو نے کہ مجھ کو اپنی خبر نہیں ہے [Refrain] تیری بہکی بہکی نگاہ نے مجھے اک شرابی بنا دیا [Verse 3] سارا جہاں مست جہاں کا نظام مست دن مست، رات مست سحر مست، شام مست خُم مست، شیشہ مست سبُو مست، جام مست ہے تیری چشمِ مست سے ہر خاص و عام مست یوں تو ساقی ہر طرح کی تیرے مے خانے میں ہے وہ بھی تھوڑی سی جو اِن آنکھوں کے پیمانے میں ہے سب سمجھتا ہوں تیری عشوہ گری اے ساقی کام کرتی ہے نظر، نام ہے پیمانے کا [Refrain] تیری بہکی بہکی نگاہ نے مجھے اک شرابی بنا دیا [Verse 4] میرے ساقی ۔ ۔ لہرا کے جُھوم جُھوم کے لا، مُسکرا کے لا پھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا کیوں جا رہی ہے رُوٹھ کے رنگینیٔ بہار جا ایک مرتبہ اُسے ورغلا کے لا ساغر شکن ہے شیخِ بلا نوش کی نظر شیشے کو زیرِ دامنِ رنگیں چُھپا کے لا کہتے ہیں عمرِ رفتہ کبھی لوٹتی نہیں جا مے کدے سے میری جوانی اُٹھا کے لا میرے ساقی ۔ ۔ میں نے مانا جناب پیتا ہوں با خُدا بے حساب پیتا ہوں لوگ، لوگوں کا خون پیتے ہیں میں تو پھر بھی شراب پیتا ہوں زندگی کا عذاب پیتا ہوں بن کے خانہ خراب پیتا ہوں روزِ محشر حساب ہو نہ سکے اس لئے بے حساب پیتا ہوں میرے ساقی ۔ ۔ جام ہے، مہتاب ہے، ساقی سارا موسم شراب ہے، ساقی بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جن میں پینا ثواب ہے، ساقی میرے ساقی ۔ ۔ اچھی پی لی، خراب پی لی تھی آگ مِثالِ حباب پی لی عادت ہے اب تو نشہ نہ کیف پانی نہ پیا، شراب پی لی نشہ ایمان ہوتا ہے، صُراحی دین ہوتی ہے جوانی کی عبادت کس قدر رنگین ہوتی ہے تمہارا حُسن اگر بے نقاب ہو جائے ہر اک چہرہ خدا کی کتاب ہو جائے جو قاعدے سے نہ ہو تو فضول ہے سجدہ ادب کے ساتھ خطا بھی ثواب ہو جائے شرابیوں کو عقیدت ہے اس قدر تم سے جو تم پلا دو تو پانی شراب ہو جائے دل اُس کا نمازی بن جائے آنکھ اُس کی گلابی ہو جائے تُو جس کے محبت سے دیکھے ساقی، وہ شرابی ہو جائے میرے ساقی ۔ ۔ میری نظر کو جنون کا پیام دے، ساقی میری حیات کو لافانی شام دے، ساقی یہ روز روز کا پینا مجھے پسند نہیں کبھی نہ ہوش میں آؤں یہ جام دے، ساقی میرے ساقی ۔ ۔ تیرے شیشے میں مے باقی نہیں ہے بتا کہ کیا تُو میرا ساقی نہیں ہے؟ سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم بخلی ہے یہ رضا کی نہیں ہے کہا جس جس نے اُس کے سامنے نہیں شِکوہ کہ شیشے میں شرابیں ارغواں رکھ دی گِلہ یہ ہے بُھلا کر دوستان رکھ دی کہا جس جس نے اُس کے سامنے بے نَوا رکھ دی جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیرِ مُغاں رکھ دی پُرانی دوستی بھی طاق پر اے مہربان رکھ دی وہ مئے دے دے جو پہلے شبلی و منصور کو دی تھی پلا دے اوک سے ساقی جو مجھ سے نفرت ہے ساقی تیری خیر، تیرے مئے کدے کی خیر ایسی پلا کے جس کا نشہ عمر بھر رہے میرے ساقی ۔ ۔ تھوڑی دے دے، بوٹی دے دے، منگدا نئیں گلابی کنّ کھول کے سُن لے میری، میں تے نہیں وہابی میرے ساقی ۔ ۔ لے لے دلوں جانا نذرانہ، پیمانہ دے پیمانہ آیا ہے تیرا مستانہ، پیمانہ دے پیمانہ ساقیا! میرا ایک کام کر دے سارا مئے خانہ میرے نام کر دے ایک دو جام سے، ساقی، میرا کیا بنتا ہے بس سارا مئے خانہ میرے نام کر دے ساقی! مجھے شراب کی تہمت نہیں پسند مجھ کو تیری نگاہ کا الدوام چاہیے میرے ساقی ۔ ۔ یہ اپنی مستی ہے جس نے مچائی ہے ہلچل نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل یہ کالی کالی بوتلیں جو ہیں شراب کی راتیں ہیں اِن میں بند ہمارے شباب کی جو کھائے شیخ نے انگور تو یزداں سے کہہ دوں گا یہ مئے کی گولیاں کھاتا ہے، میں بوتل سے پیتا ہوں میرے ساقی ۔ ۔ [Verse 5] تیرا پیار ہے میری زندگی بس میری زندگی تیرا پیار ہے نہ نماز آتی ہے مجھ کو نہ وضو آتا ہے سجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تُو آتا ہے تیرا پیار ہے میری زندگی بس میری زندگی تیرا پیار ہے میں اَزل سے بندۂ عشق ہوں مجھے زہد و کُفر کا غم نہیں میرے سر کو دَر تیرا مل گیا مجھے اب تلاشِ حرم نہیں میری بندگی ہے وہ بندگی جو مُقیدِ دیر و حرم نہیں میرا اک نظر تمہیں دیکھنا با خُدا نماز سے کم نہیں تیرا پیار ہے میری زندگی بس میری زندگی تیرا پیار ہے تیرا نام لوں صبح و شام تیرا نام لوں زُباں سے تیرے آگے سر جھکا دوں میرا عشق کہہ رہا ہے میں تجھے خدا بنا لوں تیرا نام میرے لب پر میرا تذکرہ ہے در در مجھے بھول جائے دنیا میں اگر تجھے بھُلا دوں میرے دل میں بس رہے ہیں تیرے بے پناہ جلوے نہ ہو جس میں نور تیرا وہ چراغ ہی بُجھا دوں تیری دِل لگی کے صدقے، تیری سنگ دلی کے قُربان میرے غم پہ ہنسنے والے تجھے کون سی دعا دوں؟ قیامت میں تیرا داغِ محبت لے کر اُٹھوں گا زُلف رُخ سے ہٹا کے بات کرو رات کو دن بنا کے بات کرو مئے کدے کے چراغ مدھم ہیں ذرا آنکھیں اُٹھا کے بات کرو پھول کچھ چاہیے حضور ہمیں تم ذرا مُسکرا کے بات کرو یہ بھی اندازِ گفتگو ہے کوئی جب کرو دل دُکھا کے بات کرو تیری دل لگی کے میں صدقے زرا اپنی شوخی تو دیکھیے لیے زلف غم شدہ ہاتھ میں میرے پاس آئے دبّے دبّے مجھے صاحب کہہ کر ڈرا دیا دل کی تلب ہے اور تمنا ہے جان کی کیا مہربانیاں ہیں میرے مہربان کی نازُک مزاج ہو نہ کوئی یار کی طرح کھچتا ہے بات بات پر تلوار کی طرح قیمت لگا رہا ہے مگر سب کے سامنے نازُک مزاج ہو نہ کوئی یار کی طرح دل مُفت چاہتا ہے مگر سب کے سامنے قیمت لگا رہا ہے خریدار کی طرح تیری دل لگی کے میں صدقے قیامت میں تیرا داغِ محبت لے کر اُٹھوں گا تیری تصویر اُس دم بھی گلے جیسے لگی ہو گی کیونکہ یہ ہے میری زندگی، تیرا پیار ہے بس میری زندگی تیرا پیار ہے [Verse 6] تیرا پیار ہے میری زندگی تیری یاد ہے میری بندگی جو تیری خوشی، وہ میری خوشی یہ میرے جنون کا ہے معجزہ جہاں اپنے سر کو جھکا دیا وہاں میں نے کعبہ بنا دیا میرے بعد کس کو ستاؤ گے میں نے اُن کے سامنے اوّل تو خنجر رکھ دیا پھر کلیجہ رکھ دیا، دل رکھ دیا، سر رکھ دیا اور عرض کی، میرے بعد کس کو ستاؤ گے میں نے کہا مژگاں ہے یہ اُس نے کہا یہ تیر ہے میں نے کہا ابرو ہے یہ اس نے کہا شمشیر ہے میں نے کہا چہرے پہ کیوں بل کھاتی ہیں زلفیں، تو بتا اُس نے کہا یہ عاشقوں کے واسطے زنجیر ہے میں نے کہا فُرقت میں تیری جان پر کھیلا ہوں میں اُس نے کہا زندہ رہا، یہ بھی تیری تقدیر ہے میں نے تم کو دل دیا، تم نے مجھے رُسوا کیا میں نے تم سے کیا کیا، اور تم نے مجھ سے کیا کیا میرے بعد کس کو ستاؤ گے جتنا جی چاہے ستاؤ وقت ہے بے قسم پر مسکراؤ وقت ہے دیکھ لے نہ میں نہ تڑپوں گا، ظہیر شوق سے خنجر چلاؤ وقت ہے میری وفائیں یاد کرو گے رو گے، فریاد کرو گے مجھ کو تو برباد کیا ہے اور کس کو برباد کرو گے؟ آ کر بھی نَشاد کیا ہے جا کر بھی نَشاد کرو گے تیرا ظلم نہیں ہے شامل گر میری بربادی میں تیری آنکھیں بھیگ رہی ہیں کیوں میرے افسانے سے؟ پر یہ تو بتا دو پھر میرے بعد کس کو ستاؤ گے جو پوچھا کہ کس طرح ہوتی ہے بارش جبیں سے پسینے کی بوندیں گرا دی جو پوچھا کہ کس طرح گرتی ہے بجلی نگاہیں ملائیں، ملا کر جُھکا دی جو پوچھا کہ شب و روز ملتے ہیں کیسے تو چہرے پہ اپنے وہ زُلفیں گرا دی جو پوچھا کہ نغموں میں جادو ہے کیسا تو میٹھے تکلم میں باتیں سُنا دی جو اپنی تمناؤں کا حال پوچھا تو جلتی ہوئی چند شمعیں بجھا دی میں کہتا رہ گیا خطائے محبت کی اچھی سزا دی میرے دل کی دنیا بنا کر مٹا دی اچھا پھر میرے بعد کس کو ستاؤ گے کچھ ایسی نگاہوں میں ڈھل گئے ارمان، آرزو کے جنازے نکل گئے قسمت پھری تو پھر گئے احباب اس طرح دیکھا ہمیں تو دور سے راستہ بدل گئے میرے بعد کس کو ستاؤ گے دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں رونے والوں سے ہنسی اچھی نہیں دل لگی ہی دل لگی میں دل گیا دل لگانے کا نتیجہ مل گیا میں تو روتا ہوں کہ میرا دل گیا تم کیوں ہنستے ہو، تمہیں کیا مل گیا؟ اچھا پھر میرے بعد کس کو ستاؤ گے [Verse 7] مجھے کس طرح سے مٹاؤ گے کہاں جا کے تیر چلاؤ گے میری دوستی کی بلائیں لو مجھے ہاتھ اُٹھا کے دعائیں دو تمہیں ایک قاتل بنا دیا مجھے دیکھو خواہشِ جانِ جان میں وہی ہوں انورِؔ نیم و جان تمہیں اتنا ہوش تھا جب کہاں نہ چلاؤ اس طرح تم زُباں کرو میرا شکریہ، مہربان تمہیں بات کرنا سِکھا دیا [Chorus] یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے یہ تیری نظر کا قصور ہے کہ شراب پینا سکھا دیا

Rate this song

Rate this song

0/5.0 - 0 Ratings

5
0.0% (0)
4
0.0% (0)
3
0.0% (0)
2
0.0% (0)
1
0.0% (0)

Loading comments...

Credits

Writers
  • Abdul Hameed Adam